کلکتہ، 31 جولائی (ایس او نیوز/راست) ریاستی حج کمیٹی کے چیئرمین اور ممبرآف پارلیمنٹ محمد ندیم الحق کے ہاتھوں 29 جولائی کی شام مشتاقؔ دربھنگوی کی کتاب ”اردو شاعری میں زمزم“ کا اجرا مدینۃ الحجاج میں ہوا۔ اس موقع پر محمد ندیم الحق نے کہا کہ حج آپریشن کے دوران ایسی کتابوں کا اجرا معنی رکھتا ہے۔ زمزم ایک تاریخی اور روحانی چیز ہے جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی۔ مشتاق دربھنگوی ایک سلجھے ہوئے فنکار ہیں۔ جدت ان کا وطیرہ ہے۔ ان کی اس کتاب میں مختلف شاعروں کا ایک شعر یا ایک قطعہ شامل کیا گیا ہیں۔ میں انہیں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اچاریہ جمال احمد جمال نے کہا کہ حج جیسے خوبصورت موقع پر اس طرح کی کتاب منظر عام پر آنا اچھی بات ہے۔ مدینۃ الحجاج میں عازمین حج کا میلہ لگا ہے۔ بڑا روحانی منظر ہے۔ سوئے حرم روانگی کا ذہن ہے۔ انہوں نے اپنا ایک شعر بھی سنایا:
نکل آیا ہے پانی ایڑیوں کی ایک ٹھوکر سے
الگ تاثیر ہے سب سے جہاں میں آب زم زم کی
مرتب مشتاق دربھنگوی نے کہا کہ اس کتاب کی اشاعت کی تحریک مجھے ذیل کے شعر سے ملی:
جو پیاسا ہو کوئی بچہ تو ماں کا دم نکلتا ہے
مگر جب ماں تڑپ اٹھتی ہے تو زمزم نکلتا ہے
اپنے خطاب میں مشتاق دربھنگوی نے اخبار مشرق پبلی کیشنز کا شکریہ ادا کیا خاص طور سے محمد ندیم الحق کا جنہوں نے مدینۃ الحجاج میں اس کتاب کے اجراء کرنے کی زحمت کی اور اپنا قیمتی وقت دیا۔ مشتاق دربھنگوی نے زمزم کے تعلق سے اپنا ایک قطعہ سناکر اپنی بات ختم کی:
تھے کربلا میں کئی دن سے پیاسے اہل بیت
جو سانحہ ہوا پیدا وہ ٹل بھی سکتا تھا
حسین ؓ ابن علی نے دعا نہ کی ورنہ
زمین چیر کے زمزم نکل بھی سکتا تھا
حج کمیٹی کے ایگزیکیوٹیو افسر محمد نقی نے بھی مشتاق دربھنگوی کی کوشش کی ستائش کی اور کہا کہ اس طرح کی موضوعاتی کتاب شائع ہونی چاہئے۔
شکیل افروز نے کہا کہ کتاب کا موضوع بین الاقوامی ہے۔ یہ ہر مسلمان کیلئے مقدس ہے جس کے پانی میں شفا ہے۔ دنیا کا تمام پانی بیٹھ کر پیا جاتا ہے لیکن زمزم کا پانی کھڑے ہوکر پیا جاتا ہے۔ یہی اللہ کا خصوصی حکم ہے جس پر پوری دنیا کے مسلمان عمل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشتاق دربھنگوی اس موضوعاتی کتاب کو مرتب کرکے خود بھی ثواب کے حقدار ہوئے، ساتھ ہی اس کتاب میں شامل شاعروں کو بھی انہوں نے ثواب کا حقدار بنا دیا ہے۔ یہ کتاب عازمین کیلئے ’ایک تحفہ‘ ہے۔ مشتاق صاحب نے اس کتاب کو حضرت ہاجرہ ؓ اور انکے بیٹے حضرت اسماعیل ؑ سے منسوب کیا ہے۔
شرکاء میں او ایس ڈی تنویر افضل، حج کمیٹی کے ممبر فضل الرحمن وغیرہ تھے۔